ہفتہ, اگست 30

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے سیلابی صورتحال پر بتایا ہے کہ ملک میں حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے، اب تک 25 ہزار افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بتایا کہ جیسے ہی خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب کا سلسلہ شروع ہوا تو آرمی چیف نے فوری امدادی سرگرمیاں شروع کرنے کی ہدایات جاری کر دی تھیں، پاک فوج کے 8 یونٹس متاثرہ علاقوں میں فعال ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج کی انجینئرنگ بریگیڈز، بٹالین اور میڈیکل یونٹس خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں میں شریک ہیں، 9 میڈیکل کیمپس میں اب تک 6 ہزار 304 شہریوں کا علاج کیا جاچکا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے بتایا گیا کہ متاثرین کے لیے پاک فوج کے ایک دن کا راشن مختص کیا گیا ہے، دور دراز علاقوں میں خوراک، امداد اور دیگر سہولتوں کی فراہمی کو ممکن بنایا جارہا ہے، پوک فوج کی سگنل کور کی یونٹس پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کیساتھ ملکر کام کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 90 سڑکیں متاثر ہوئی تھیں، 9 سڑکوں پر مکمل بحال کر دیا گیا ہے، بارشیں جاری ہونے کی وجہ سے باقی سڑکوں کو عارضی طور پر کھول دیا گیا ہے، شاہراہ قراقرم 8 مقامات سے بلاک ہوئی تھی، جسے بحال کر دیا گیا ہے، حکومت اور متعلقہ اداروں کے علاوہ کراچی سے آنے والی امداد کو بھی متعلقہ علاقوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔

Leave A Reply

Exit mobile version