لاہور: مسلم لیگ ن کا آئندہ مالی سال کے بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے بارے سفارشات کے معاملہ پر اجلاس ہوا، اجلاس میں تین نکاتی ایجنڈے پر تفصیلی مشاورت اور پارٹی قائدین کو بریفگ دی گئی۔
پارٹی ذرائع کے مطابق جاتی امرا رائیونڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کی زیر صدارت تین گھنٹے طویل مشاورتی اجلاس ہوا، اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وفاقی وزرا محمد اورنگزیب ، ڈاکٹر مصدق ملک، اویس لغاری، عطا تارڑ، رانا تنویر حسین سمیت دیگر شریک ہوئے۔
ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں وزیراعلی پنجاب مریم نواز، پارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر پرویز رشید، وفاقی و صوبائی محکموں کے مختلف سیکرٹریز نے بھی شرکت کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ طویل مشاورتی اجلاس میں آئندہ بجٹ میں عوام کو ہر ممکن ریلیف دینے کے اقدامات کی تجاویز پر تبادلہ خیال ہوا، وفاقی و صوبائی سطح پر عوام کو ہر ممکن ریلیف دینے کے حوالے سے اقدامات بارے تجاویز لی گئیں۔
اجلاس میں شرکت کرنے والے وفاقی وزرا اور سیکرٹریز نے اپنے اپنے محکموں کی جانب سے ممکنہ ریلیف کے اقدامات کی تجاویز پیش کیں، پارٹی قائدین نے بھی عوام کو ہر ممکنہ ریلیف دینے بارے اپنی اپنی تجاویز شرکا کے سامنے رکھیں۔
علاوہ ازیں وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے اپنی صوبائی حکومت کی جانب سے بھرپور ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات تجویز کئے جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے بجٹ مشاورتی اجلاس میں اپنے وسیع تر سیاسی و انتظامی تجربے کی بنیاد پر ہدایات بھی جاری کیں۔
ہفتہ, اپریل 19
تازہ ترین
- قومی معاملات پر اتفاق رائے ناگزیر ہے، ملکی مفادات کیلیے اجتماعی فیصلے کیے جائیں، بلاول بھٹو
- وزیراعلیٰ مریم نواز کا جناح اسپتال کا اچانک دورہ، پرنسپل اور ایم ایس معطل
- چین کا آبادیاتی سنگم: کیا اعلیٰ معیار کی ترقی عمر رسیدہ آبادی کو پورا کر سکتی ہے؟
- چین کا اے آئی ایسنٹ: یوزر مومینٹم ایندھن کی جدت
- اے آئی ٹیکنالوجی چین میں سرکاری خدمات کی کارکردگی کو بڑھاتی ہے۔
- چین کے دو سیشن: عوامی آواز اور پالیسی ایکشن کو پورا کرنا
- چین عالمی سبز تبدیلی کو آگے بڑھانے کے لیے ‘تکنیکی شمولیت’ کو فروغ دیتا ہے۔
- پانچ فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ہدف چین کے حقیقی حالات کے مطابق ہے۔
- چینی جدیدیت: عالمی ترقی کے لیے بلیو پرنٹ
- اعلیٰ معیار کا بیلٹ اینڈ روڈ تعاون عالمی ترقی کے مواقع پیدا کرتا ہے۔
- چین عالمی استحکام کو ‘قابل کنندہ’ کی شکل دیتا ہے
- ایرانی جوہری مسئلے کے حل کے لیے بات چیت اور مذاکرات ہی قابل عمل آپشن ہیں۔