اسلام آباد: بنگلادیش اے کیخلاف پہلے چار روزہ میچ میں پاکستان شاہینز نے پہلی اننگز میں 4 وکٹوں پر 367 رنز بنالیے۔
عمر امین کی شاندار سنچری اور کپتان سعود شکیل کے 76 رنز کی بدولت پاکستان شاہینز نے بنگلہ دیش اے کے خلاف چار روزہ میچ کے دوسرے روز اپنی پہلی اننگز میں 4 وکٹوں پر 367 رنز بنالیے۔
اس سے قبل بنگلا دیش اے کی ٹیم پہلے دن اپنی پہلی اننگز میں 122 رنز بناکر آٹ ہوگئی تھی۔ اسطرح پاکستان شاہینز کو 245 رنز کی برتری حاصل ہوگئی ہے اور اس کی 6 وکٹیں ابھی باقی ہیں۔
اسلام آباد کلب میں میچ کے دوسرے روز پاکستان شاہینز نے اپنی پہلی اننگز2 رنز بغیر کسی نقصان پر شروع کی تاہم صائم ایوب 11 رنز بناکر آٹ ہوگئے۔
عمرامین اور محمد ہریرہ نے دوسری وکٹ کی شراکت میں 96 رنز کا اضافہ کیا۔محمد ہریرہ پانچ چوکوں کی مدد سے 39 رنز بناکر آٹ ہوگئے۔
عمرامین نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں اپنی 32 ویں سنچری 128 گیندوں پر مکمل کی۔ وہ 177 رنز بناکر آٹ ہوئے۔ ان کی اننگز میں 23 چوکے اور 3 چھکے شامل تھے یہ ان کے فرسٹ کلاس کریئر کا دوسرا سب سے بڑا انفرادی اسکور ہے۔ اس سے قبل انہوں نے نومبر2012 میں پورٹ قاسم اتھارٹی کی طرف سے حبیب بینک کے خلاف 281 رنز اسکور کیے تھے۔
عمرامین نے کپتان سعود شکیل کے ساتھ تیسری وکٹ کی شراکت میں 195 رنز کا اضافہ کیا، سعود شکیل نے 76 رنز کی اننگز کھیلی جس میں 9 چوکے شامل تھے۔
کھیل کے اختتام پر سعد خان چھ چوکوں کی مدد سے 31 اور کامران غلام ایک چھکے اور ایک چوکے کی مدد سے 20 رنز پر ناٹ آٹ تھے۔ بنگلہ دیش اے کی طرف سے حسن مراد نے دو وکٹیں حاصل کیں۔
اتوار, اپریل 6
تازہ ترین
- قومی معاملات پر اتفاق رائے ناگزیر ہے، ملکی مفادات کیلیے اجتماعی فیصلے کیے جائیں، بلاول بھٹو
- وزیراعلیٰ مریم نواز کا جناح اسپتال کا اچانک دورہ، پرنسپل اور ایم ایس معطل
- چین کا آبادیاتی سنگم: کیا اعلیٰ معیار کی ترقی عمر رسیدہ آبادی کو پورا کر سکتی ہے؟
- چین کا اے آئی ایسنٹ: یوزر مومینٹم ایندھن کی جدت
- اے آئی ٹیکنالوجی چین میں سرکاری خدمات کی کارکردگی کو بڑھاتی ہے۔
- چین کے دو سیشن: عوامی آواز اور پالیسی ایکشن کو پورا کرنا
- چین عالمی سبز تبدیلی کو آگے بڑھانے کے لیے ‘تکنیکی شمولیت’ کو فروغ دیتا ہے۔
- پانچ فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ہدف چین کے حقیقی حالات کے مطابق ہے۔
- چینی جدیدیت: عالمی ترقی کے لیے بلیو پرنٹ
- اعلیٰ معیار کا بیلٹ اینڈ روڈ تعاون عالمی ترقی کے مواقع پیدا کرتا ہے۔
- چین عالمی استحکام کو ‘قابل کنندہ’ کی شکل دیتا ہے
- ایرانی جوہری مسئلے کے حل کے لیے بات چیت اور مذاکرات ہی قابل عمل آپشن ہیں۔