سابق وزیراعلی کے پی پرویزخٹک نے وزیر اعلی پختونخوا علی امین گنڈا پور کے بیان پر ردعمل میں کہا کہ علی امین گنڈا پور بھڑکیں نہ ماریں۔
علی امین گنڈا پور نے دو روز قبل مانسہرہ جلسے میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا پرویز خٹک کو عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کے لیے بلایا جا رہا ہے، پرویز خٹک نے عمران خان کے خلاف گواہی دی تو انہیں صوبے میں نہیں رہنے دیں گے۔
وزیر اعلی کے پی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ میں علی امین گنڈا پور کو اور علی امین مجھے بہت اچھی طرح جانتے ہیں، نہ ہی میں نے کبھی جھوٹ بولا نہ ہی جھوٹ بولوں گا، کچھ لوگ ہیں جو سچ برداشت نہیں کر سکتے۔
ان کا کہنا تھا علی امین گنڈا پور بھڑکیں نہ ماریں، میرا تعلق بھی خٹک قبیلے سے ہے، مجھے اپنے صوبے میں کوئی بند نہیں کر سکتا۔
سابق وزیر دفاع کا یہ بھی کہنا تھا پہلے بھی نیب کے نوٹس پر پیش ہوا تھا اب بھی نیب کے نوٹس پر عدالت جاں گا، نوٹس دیکر بلایا جاتا ہے، نہ پہلے اپنی مرضی سے پیش ہوا، نہ اب اپنی مرضی سے جا رہا ہوں۔
پرویز خٹک نے مزید کہا کہ کسی کیخلاف نہیں وفاقی کابینہ اجلاس کی کارروائی میں جو ہوا وہ بولوں گا، اس وقت کی پوری کابینہ اجلاس کی کارروائی کی گواہ ہے، علی امین گنڈا پور بھی اس وقت کی کابینہ کا حصہ تھے، وہ بھی عینی شاہد ہیں۔
سابق وزیراعلی کے پی کا کہنا تھا مجھ پر کسی کا احسان نہیں تو احسان فراموش کیسے ہو سکتا ہوں، 2013 میں اپنی محنت سے کم ممبران پر حکومت بنائی، کسی نے احسان کرکے وزیراعلی نہیں بنایا۔
ہفتہ, دسمبر 14
تازہ ترین
- پی ٹی آئی کی مذاکرات کیلئے شرائط سمجھ سے بالاتر ہیں: رانا تنویر حسین
- جسٹس جمال خان مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کے خط کا جواب دے دیا
- 9 مئی کیس: اسلم اقبال اور حما د اظہر سمیت 8 پی ٹی آئی رہنما اشتہاری قرار
- شہباز کو ہٹانے، بلاول کو لانے کیلئے ایوان صدر میں خفیہ ملاقاتیں ہورہی ہیں: بیرسٹر سیف
- پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی ایڈوائس ارسال، مدارس بل کی منظوری کا امکان
- وزیراعظم کا او آئی سی سی آئی کی سرمایہ کاری بارے رپورٹ پر اظہار اطمینان
- ریکارڈ پر ریکارڈ قائم! سٹاک مارکیٹ میں ہنڈرڈ انڈیکس بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
- مریم نواز کا شنگھائی ایکسپیریمنٹل سکول کا دورہ، مختلف شعبوں کا مشاہدہ
- چیلنجز سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی اقتصادی پالیسیوں کی ضرورت ہے:ناصر قریشی
- 71ہزار سے زائد شناختی کارڈز بلاک کئے جانے کا انکشاف
- عادل بازئی کو ڈی سیٹ کرنے کا فیصلہ کالعدم، قومی اسمبلی کی رکنیت بحال
- آئینی بنچ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کیخلاف درخواستیں خارج کر دیں