ڈھاکا: شیخ حسینہ واجد کے استعفے اور بھارت روانگی کے بعد بنگلادیشی فوج میں اعلی عہدوں پر بڑے پیمانے پر رد وبدل کی گئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلادیشی فوج میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ میں میجر جنرل ضیاالاحسن کو بغیر کوئی وجہ بتائے ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔
خیال رہے کہ میجر جنرل ضیا الاحسن کو حسینہ واجد کے انتہائی قریب سمجھا جاتا تھا وہ انٹیلی جنس ایجنسی نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن مانیٹرنگ سینٹر کے سربراہ تھے۔وزارت داخلہ کے ماتحت کام کرنے والا یہ ادارہ ملک سلامتی کے تحت سوشل میڈیا اکانٹس کی نگرانی اور فون کالز ریکارڈنگ کا مجاز تھا۔
علاوہ ازیں اس ادارے کی ذمہ داریوں میں کمیونیکیشن مواد کی ریکارڈنگ، اعداد و شمار جمع کرنے اور ملکی صورتحال پر نظر رکھنا شامل تھا۔
بنگلادیشی فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل محمد سیف عالم کو وزارت خارجہ کا قلمدان سونپا گیا جب کہ لیفٹیننٹ جنرل مجیب الرحمان کو جی او سی آرمی ٹریننگ اینڈ ڈاکٹرائن کمانڈ مقرر کردیا گیا۔
اسی طرح لیفٹیننٹ جنرل احمد تبریز شمس چودھری کو کوارٹر ماسٹر جنرل آف آرمی، لیفٹیننٹ جنرل محمد مجیب الرحمان کو آرمی کا کوارٹر ماسٹر جنرل مقرر کیا گیا۔
انور شمیم کو آرمی چیف آف جنرل اسٹاف، لیفٹیننٹ جنرل محمد شاہین الحق کو کمانڈنٹ این ڈی سی اور میجر جنرل اے ایس ایم رضوان الرحمان کو نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن مانیٹرنگ سینٹر (NTMC) کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز آرمی جنرل وقار الزماں نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ حسینہ واجد استعفی دیکر بھارت چلی گئیں اور اب ملک میں ایک عبوری حکومت قائم کی جائے گی۔
اتوار, اپریل 6
تازہ ترین
- قومی معاملات پر اتفاق رائے ناگزیر ہے، ملکی مفادات کیلیے اجتماعی فیصلے کیے جائیں، بلاول بھٹو
- وزیراعلیٰ مریم نواز کا جناح اسپتال کا اچانک دورہ، پرنسپل اور ایم ایس معطل
- چین کا آبادیاتی سنگم: کیا اعلیٰ معیار کی ترقی عمر رسیدہ آبادی کو پورا کر سکتی ہے؟
- چین کا اے آئی ایسنٹ: یوزر مومینٹم ایندھن کی جدت
- اے آئی ٹیکنالوجی چین میں سرکاری خدمات کی کارکردگی کو بڑھاتی ہے۔
- چین کے دو سیشن: عوامی آواز اور پالیسی ایکشن کو پورا کرنا
- چین عالمی سبز تبدیلی کو آگے بڑھانے کے لیے ‘تکنیکی شمولیت’ کو فروغ دیتا ہے۔
- پانچ فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ہدف چین کے حقیقی حالات کے مطابق ہے۔
- چینی جدیدیت: عالمی ترقی کے لیے بلیو پرنٹ
- اعلیٰ معیار کا بیلٹ اینڈ روڈ تعاون عالمی ترقی کے مواقع پیدا کرتا ہے۔
- چین عالمی استحکام کو ‘قابل کنندہ’ کی شکل دیتا ہے
- ایرانی جوہری مسئلے کے حل کے لیے بات چیت اور مذاکرات ہی قابل عمل آپشن ہیں۔