فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر کے بیانات قلمبند کرکے اپنی رپورٹ مکمل کرلی ہے جو آئندہ ہفتے سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں درج کیا گیا ہے کہ فیض آباد میں مذہبی جماعت کے دھرنے کے شرکا سے ڈی جی سی آئی ایس آئی نے اس وقت کے وزیراعظم کی منظوری سے مذاکرات کیے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیشن میں اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے وزیراعظم ہاؤس کی میٹنگکے منٹس کی تصدیق کی جس کے مطابق انٹیلی جنس ایجنسی کے اعلی افسر کو وزیراعظم آفس سے مذاکرات کی ہدایت کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ 22 جنوری 2024 کو سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کو رپورٹ پیش کرنے کے لیے مزید ایک ماہ کا وقت دیا تھا۔جنوری کے تیسرے ہفتے میں انکوائری کمیشن نے رپورٹ کو حتمی شکل دے کر سپریم کورٹ میں پیش کرنا تھا۔
15 نومبر 2023 کو سپریم کورٹ میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے 2017 کے فیض آباد دھرنے سے متعلق اپنے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت نے عدالت عظمی سے کہا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں۔
اتوار, اگست 31
تازہ ترین
- سینیٹ الیکشن : رانا ثناء اللہ اور سلمیٰ اعجاز کے کاغذات نامزدگی منظور
- معاشی اصلاحات سے ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے: وزیر خزانہ
- پاکستان کی علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کی حمایت جاری رکھیں گے: چین
- پاک فوج بلوچستان کے عوام کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے: فیلڈ مارشل
- غذر میں گلیشیئر پھٹنے سے پھر سیلاب، متعدد دیہات زیر آب، 200 سے زائد افراد ریسکیو
- پاکستان بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت جامع مذاکرات کیلئے تیار ہے: اسحاق ڈار
- علیمہ خان کے بیٹے شاہ ریز کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور، دوسرا بیٹا شیر شاہ بھی گرفتار
- ملک کی ترقی کے لیے میرا ایک ہی مقصد یہاں سرمایہ کاری لانا ہے: وزیراعظم
- خیبرپختونخوا میں بارشوں سے ہونیوالے نقصانات کی مکمل تفصیل سامنے آگئی
- پاکستان کیخلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دینگے، افغان وزیر خارجہ کی یقین دہانی
- کوئی لیڈر میرٹ پر آیا نہ آئین پر عمل ہو رہا، ہر ڈویژن کو صوبہ بنانا چاہیے: میاں عامر محمود
- وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا سیلاب سے متاثرہ اضلاع کا دورہ، متاثرین کو مدد کی یقین دہانی