اسلام آباد(سپورٹس ڈیسک)پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان فیصلہ کن ٹیسٹ میچ کے پہلے دن کے اختتام پر پاکستان نے پہلی اننگز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 73 رنز بنالیے۔پاکستانی اوپنر عبداللہ شفیق اور صائم ایوب 14 اور 16 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ کامران غلام 3 رنز پویلین واپس لوٹے۔دن کے اختتام پر پاکستانی کپتان شان مسعود 16 جبکہ سعود شکیل 16 رنز بناکر کریز پر موجود تھے۔اس سے قبل انگلینڈ کی پوری ٹیم پہلی اننگز میں 276 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی تھی۔اسپنر ساجد خان نے چھ جب کہ نعمان علی نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ بولر زاہد محمود نے ایک شکار کیا۔راولپنڈی میں کھیلے جانے والے اس میچ میں انگلینڈ نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا۔ٹاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی کپتان شان مسعود کا کہنا تھا کہ ٹاس کبھی پلان کے مطاق ہوجاتا ہے کبھی نہیں، ہمیں اچھی کرکٹ کھیلنی ہے۔شان مسعود کا کہنا تھا کہ ہماری تیاری ہے اور اس کے مطابق کھیلیں گے، انگلینڈ کے خلاف کھیلنا اچھا تجربہ ہے۔واضح رہے کہ تیسرے ٹیسٹ میچ کیلئے پاکستان ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔راولپنڈی ٹیسٹ میں قومی ٹیم 3 اسپنرز نعمان علی، زاہد محمود اور ساجد خان کے ساتھ میدان میں اتری جب کہ صائم ایوب اور عبداللہ شفیق نے اوپننگ کی۔پلیئنگ الیون میں شان مسعود، کامران غلام، سعودشکیل، محمدرضوان، سلمان علی آغا اور عامر جمال بھی شامل ہیں۔خیال رہے کہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو ایک اننگز اور 47 رنز سے شکست دی تھی اور دوسرے میچ میں پاکستان نے انگلینڈ کو 152 رنز سے ہرایا تھا۔
ہفتہ, اپریل 5
تازہ ترین
- قومی معاملات پر اتفاق رائے ناگزیر ہے، ملکی مفادات کیلیے اجتماعی فیصلے کیے جائیں، بلاول بھٹو
- وزیراعلیٰ مریم نواز کا جناح اسپتال کا اچانک دورہ، پرنسپل اور ایم ایس معطل
- چین کا آبادیاتی سنگم: کیا اعلیٰ معیار کی ترقی عمر رسیدہ آبادی کو پورا کر سکتی ہے؟
- چین کا اے آئی ایسنٹ: یوزر مومینٹم ایندھن کی جدت
- اے آئی ٹیکنالوجی چین میں سرکاری خدمات کی کارکردگی کو بڑھاتی ہے۔
- چین کے دو سیشن: عوامی آواز اور پالیسی ایکشن کو پورا کرنا
- چین عالمی سبز تبدیلی کو آگے بڑھانے کے لیے ‘تکنیکی شمولیت’ کو فروغ دیتا ہے۔
- پانچ فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ہدف چین کے حقیقی حالات کے مطابق ہے۔
- چینی جدیدیت: عالمی ترقی کے لیے بلیو پرنٹ
- اعلیٰ معیار کا بیلٹ اینڈ روڈ تعاون عالمی ترقی کے مواقع پیدا کرتا ہے۔
- چین عالمی استحکام کو ‘قابل کنندہ’ کی شکل دیتا ہے
- ایرانی جوہری مسئلے کے حل کے لیے بات چیت اور مذاکرات ہی قابل عمل آپشن ہیں۔