لندن: حال ہی میں ہوئی ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو فیملی اکثر نقل و حرکت (گھر کی شفٹنگ)کرتی رہتی ہے، ان کے بچوں میں بعد کی زندگی میں ڈپریشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
محققین نے پایا کہ جو بچے 10 سے 15 سال کی عمر کے درمیان ایک بار شفٹنگ کرتے ہیں ان میں جوانی میں ڈپریشن کا شکار ہونے کا امکان 41 فیصد زیادہ ہوتا ہے، ان لوگوں کے مقابلے جن کے اہلخانہ شفٹنگ نہیں کرتے۔
اور جو بچے مذکورہ بالا عمر میں دو بار شفٹنگ کرتے ہیں، ان میں ڈپریشن کا امکان 61 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ دوسری جانب، وہ بچے جو غریب محلے میں رہتے ہیں ان میں دیگر بچوں کے مقابلے میں ڈپریشن کا امکان بہت کم ہوتا ہے جو کہ 10 فیصد ہے۔
تحقیقی نتائج بتاتے ہیں کہ بچپن کے دوران گھر کا ماحول بچوں کو مستقبل میں ذہنی صحت کے مسائل سے بچانے کے لیے بہت ضروری ہے۔
برطانیہ میں پلائی ماتھ یونیورسٹی کے پروفیسر کلیو سبیل نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ایسے بہت سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے کسی شخص کی خراب ذہنی حالت کا پتہ چلتا ہے تاہم یہ پہلا ثبوت ہے جس میں نئے پڑوس میں شفٹ ہونا ان عوام میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔
ہفتہ, اگست 30
تازہ ترین
- سینیٹ الیکشن : رانا ثناء اللہ اور سلمیٰ اعجاز کے کاغذات نامزدگی منظور
- معاشی اصلاحات سے ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے: وزیر خزانہ
- پاکستان کی علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کی حمایت جاری رکھیں گے: چین
- پاک فوج بلوچستان کے عوام کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے: فیلڈ مارشل
- غذر میں گلیشیئر پھٹنے سے پھر سیلاب، متعدد دیہات زیر آب، 200 سے زائد افراد ریسکیو
- پاکستان بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت جامع مذاکرات کیلئے تیار ہے: اسحاق ڈار
- علیمہ خان کے بیٹے شاہ ریز کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور، دوسرا بیٹا شیر شاہ بھی گرفتار
- ملک کی ترقی کے لیے میرا ایک ہی مقصد یہاں سرمایہ کاری لانا ہے: وزیراعظم
- خیبرپختونخوا میں بارشوں سے ہونیوالے نقصانات کی مکمل تفصیل سامنے آگئی
- پاکستان کیخلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دینگے، افغان وزیر خارجہ کی یقین دہانی
- کوئی لیڈر میرٹ پر آیا نہ آئین پر عمل ہو رہا، ہر ڈویژن کو صوبہ بنانا چاہیے: میاں عامر محمود
- وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا سیلاب سے متاثرہ اضلاع کا دورہ، متاثرین کو مدد کی یقین دہانی