لندن: حال ہی میں ہوئی ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو فیملی اکثر نقل و حرکت (گھر کی شفٹنگ)کرتی رہتی ہے، ان کے بچوں میں بعد کی زندگی میں ڈپریشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
محققین نے پایا کہ جو بچے 10 سے 15 سال کی عمر کے درمیان ایک بار شفٹنگ کرتے ہیں ان میں جوانی میں ڈپریشن کا شکار ہونے کا امکان 41 فیصد زیادہ ہوتا ہے، ان لوگوں کے مقابلے جن کے اہلخانہ شفٹنگ نہیں کرتے۔
اور جو بچے مذکورہ بالا عمر میں دو بار شفٹنگ کرتے ہیں، ان میں ڈپریشن کا امکان 61 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ دوسری جانب، وہ بچے جو غریب محلے میں رہتے ہیں ان میں دیگر بچوں کے مقابلے میں ڈپریشن کا امکان بہت کم ہوتا ہے جو کہ 10 فیصد ہے۔
تحقیقی نتائج بتاتے ہیں کہ بچپن کے دوران گھر کا ماحول بچوں کو مستقبل میں ذہنی صحت کے مسائل سے بچانے کے لیے بہت ضروری ہے۔
برطانیہ میں پلائی ماتھ یونیورسٹی کے پروفیسر کلیو سبیل نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ایسے بہت سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے کسی شخص کی خراب ذہنی حالت کا پتہ چلتا ہے تاہم یہ پہلا ثبوت ہے جس میں نئے پڑوس میں شفٹ ہونا ان عوام میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔
ہفتہ, اپریل 5
تازہ ترین
- قومی معاملات پر اتفاق رائے ناگزیر ہے، ملکی مفادات کیلیے اجتماعی فیصلے کیے جائیں، بلاول بھٹو
- وزیراعلیٰ مریم نواز کا جناح اسپتال کا اچانک دورہ، پرنسپل اور ایم ایس معطل
- چین کا آبادیاتی سنگم: کیا اعلیٰ معیار کی ترقی عمر رسیدہ آبادی کو پورا کر سکتی ہے؟
- چین کا اے آئی ایسنٹ: یوزر مومینٹم ایندھن کی جدت
- اے آئی ٹیکنالوجی چین میں سرکاری خدمات کی کارکردگی کو بڑھاتی ہے۔
- چین کے دو سیشن: عوامی آواز اور پالیسی ایکشن کو پورا کرنا
- چین عالمی سبز تبدیلی کو آگے بڑھانے کے لیے ‘تکنیکی شمولیت’ کو فروغ دیتا ہے۔
- پانچ فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ہدف چین کے حقیقی حالات کے مطابق ہے۔
- چینی جدیدیت: عالمی ترقی کے لیے بلیو پرنٹ
- اعلیٰ معیار کا بیلٹ اینڈ روڈ تعاون عالمی ترقی کے مواقع پیدا کرتا ہے۔
- چین عالمی استحکام کو ‘قابل کنندہ’ کی شکل دیتا ہے
- ایرانی جوہری مسئلے کے حل کے لیے بات چیت اور مذاکرات ہی قابل عمل آپشن ہیں۔