اسلام آباد (نیوزڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو رواں مالی سال کے پہلے 4 مہینوں میں 188 ارب 80 کروڑ روپےکے شارٹ فال کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق ایف بی آر نےرواں مالی سال کے پہلے 4 مہینوں میں 3631 ارب 40کروڑ روپے کے محصولات ا کٹھے کرنا تھے لیکن ان 4 مہینوں میں 3442ارب 60 کروڑ روپے اکٹھے کیے گئے۔ذرائع نے بتایاکہ ایف بی آر نے رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران 169 ارب روپے سے زیادہ ریفنڈ کیا اوراکتوبر کے مہینے میں 879ارب روپے کے محصولات اکٹھے کیے۔ذرائع ایف بی آر کے مطابق ایف بی آر نے اکتوبر میں 980ارب روپے ٹیکس اکٹھا کرنا تھا لیکن اکتوبر میں ایف بی آر نے ہدف سے 101ارب روپے کم ٹیکس اکٹھا کیا اور اکتوبر میں 22ارب60کروڑ روپے ری فنڈ بھی کیے۔
ہفتہ, اپریل 5
تازہ ترین
- قومی معاملات پر اتفاق رائے ناگزیر ہے، ملکی مفادات کیلیے اجتماعی فیصلے کیے جائیں، بلاول بھٹو
- وزیراعلیٰ مریم نواز کا جناح اسپتال کا اچانک دورہ، پرنسپل اور ایم ایس معطل
- چین کا آبادیاتی سنگم: کیا اعلیٰ معیار کی ترقی عمر رسیدہ آبادی کو پورا کر سکتی ہے؟
- چین کا اے آئی ایسنٹ: یوزر مومینٹم ایندھن کی جدت
- اے آئی ٹیکنالوجی چین میں سرکاری خدمات کی کارکردگی کو بڑھاتی ہے۔
- چین کے دو سیشن: عوامی آواز اور پالیسی ایکشن کو پورا کرنا
- چین عالمی سبز تبدیلی کو آگے بڑھانے کے لیے ‘تکنیکی شمولیت’ کو فروغ دیتا ہے۔
- پانچ فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ہدف چین کے حقیقی حالات کے مطابق ہے۔
- چینی جدیدیت: عالمی ترقی کے لیے بلیو پرنٹ
- اعلیٰ معیار کا بیلٹ اینڈ روڈ تعاون عالمی ترقی کے مواقع پیدا کرتا ہے۔
- چین عالمی استحکام کو ‘قابل کنندہ’ کی شکل دیتا ہے
- ایرانی جوہری مسئلے کے حل کے لیے بات چیت اور مذاکرات ہی قابل عمل آپشن ہیں۔