سروے رپورٹ کے مطابق 44 فیصد پاکستانی اپنی مالی حالت سے پریشان ہیں۔اس بات کا انکشاف رائے عامہ کا جائزہ لینے والے معروف ادارے گیلپ پاکستان کے ایک نئے سروے میں ہوا ہے۔
گیلپ پاکستان نے عوامی رائے پر مبنی ایک نیا سروے جاری کیا ہے۔سروے میں 44 فیصد پاکستانیوں نے کہا کہ وہ اپنی مالی صورتحال کے بارے میں پریشان ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ 10 سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ مالی طور پر کمزور ہو چکے ہیں۔
35 فیصد پاکستانیوں کی رائے اس کے برعکس تھی، ان کا کہنا تھا کہ وہ مالی طور پر مضبوط اور زیادہ خوشحال ہو گئے ہیں۔
سروے میں 16 فیصد نے کہا کہ 10 سال پہلے کے مقابلے میں کوئی فرق نہیں آیا اور کہا کہ مالیاتی صورتحال اب بھی وہی ہے جو پہلے تھی۔
ہفتہ, اپریل 5
تازہ ترین
- قومی معاملات پر اتفاق رائے ناگزیر ہے، ملکی مفادات کیلیے اجتماعی فیصلے کیے جائیں، بلاول بھٹو
- وزیراعلیٰ مریم نواز کا جناح اسپتال کا اچانک دورہ، پرنسپل اور ایم ایس معطل
- چین کا آبادیاتی سنگم: کیا اعلیٰ معیار کی ترقی عمر رسیدہ آبادی کو پورا کر سکتی ہے؟
- چین کا اے آئی ایسنٹ: یوزر مومینٹم ایندھن کی جدت
- اے آئی ٹیکنالوجی چین میں سرکاری خدمات کی کارکردگی کو بڑھاتی ہے۔
- چین کے دو سیشن: عوامی آواز اور پالیسی ایکشن کو پورا کرنا
- چین عالمی سبز تبدیلی کو آگے بڑھانے کے لیے ‘تکنیکی شمولیت’ کو فروغ دیتا ہے۔
- پانچ فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ہدف چین کے حقیقی حالات کے مطابق ہے۔
- چینی جدیدیت: عالمی ترقی کے لیے بلیو پرنٹ
- اعلیٰ معیار کا بیلٹ اینڈ روڈ تعاون عالمی ترقی کے مواقع پیدا کرتا ہے۔
- چین عالمی استحکام کو ‘قابل کنندہ’ کی شکل دیتا ہے
- ایرانی جوہری مسئلے کے حل کے لیے بات چیت اور مذاکرات ہی قابل عمل آپشن ہیں۔